نئی دہلی، 23 جون (آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے دہلی اقلیتی کمیشن (ڈی ایم سی) ایکٹ کے غیر آئینی ہونے کا الزام لگانے والی درخواست پر جواب دینے کے لئے دہلی حکومت کو منگل کومزید چار ہفتوں کی مہلت دی۔
چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پریتک جالان کی بنچ نے دہلی حکومت کو اضافی وقت دیا اور معاملے کو 30 جولائی کو مزید سماعت کے لئے درج کیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے 21 مئی کو دہلی حکومت کو ڈی ایم سی ایکٹ کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواست پر جواب دینے کے لئے 22 جون تک کا وقت دیا ہے۔
دہلی حکومت کے وکیل نے منگل کو مزید وقت طلب کیا اور کہا کہ محکمہ قانون کووڈ 19 وبائی امراض کی وجہ سے کم صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے، اس لئے جواب کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔
دہلی حکومت کو جواب داخل کرنے کا وقت دیتے ہوئے بنچ نے واضح کیا کہ کمیشن کے چیئرمین ظفر الاسلام خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر 21 مئی والاحکم نافذ رہے گا، جس میں دہلی حکومت کواس پر فیصلہ کرنے کیلئے دو ہفتے کاوقت دیاگیاتھا اور درخواست کا تصفیہ کردیاگیاتھا۔
عدالت نے کہا کہ اب وہ صرف ڈی ایم سی ایکٹ کے آئینی جواز کو درپیش چیلنج کوہی دیکھے گی۔ درخواست گزار وکرم گہلوت کی جانب سے پیش ہوئے وکیل دھننجے جین نے کہا کہ عدالت کی جانب سے دیا گیا دو ہفتوں کا وقت بہت پہلے ختم ہوگیا تھا، لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ دہلی حکومت کے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر مبینہ قابل اعتراض پوسٹ کے تعلق سے ظفرالاسلام کا جواب قانون محکمہ کومل گیاہے، جہاں یہ زیر غور ہے۔